سورة الفرقان - آیت 53

وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور وہی ہے جس نے دوسمندروں کو ملارکھا ہے ایک لذیذ اور میٹھا اور دوسرا تلخ اور کڑواہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ جو انہیں خلط ملط ہونے سے روکے ہوئے ہے۔“ (٥٣)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

23۔ اللہ تعالیٰ کے رب اور یکتا و بے ہمتا ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے رحم اور اس کے قدرت سے دو دریا ساتھ ساتھ بہتے ہیں، ایک کا پانی نہایت میٹھا ہے، اور دوسرے کا نہایت کھارا، اور دونوں کے درمیان اس نے ایسی ایسی غیر مرئی دیوار کھڑی کردی ہے کہ دونوں دریا ایک ساتھ بہتے ہیں، لیکن میٹھا کھارے کے ساتھ ہرگز نہیں ملتا ہے۔ اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرحمن آیات 19 20 میں بھی بیان فرمایا ہے۔ مرج البحرین یلقتقیان، بینھما برزخ لا یبغیان۔ اس نے دو دریا جاری کردئیے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ ان دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں سکتے۔