سورة البقرة - آیت 279

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اگر تم نے سود نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ ہاں اگر تو بہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

376: سود لینا اللہ اور رسول کے خلاف جنگ ہے، اور جس کی جنگ اللہ اور اس کے رسول سے ٹھن جائے وہ کب فلاح پائے گا؟ سودی کاروبار سے توبہ کرنے کے بعد صرف اصل مال لینا جائز ہوگا، اور اگر قرضدار تنگدست ہے، اس کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں، تو اسے مہلت دینی چاہئے اور اگر قرض والا تنگدست قرض دار کو معاف کردے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ آخرت میں اس کا اچھا بدلہ پائے گا۔