سورة النور - آیت 19

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو لگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کی جماعت میں بے حیائی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (١٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١١۔ اس آیت کریمہ میں بھی مسلمانوں کو ایک اخلاقی تعلیم دی گئی ہے کہ مسلم سوسائٹی میں اگر ایک شخص کوئی بری بات سنے تو اس کا فرض ہے کہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، اس لیے کہ اس سے کمزور ایمان والوں اور منافقوں کو مسلم سماج میں برائی پھیلانے کا موقع ملتا ہے، ایسے لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اخلاقی انارکی پھیلے، اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دنیا وآخرت میں شدید عذاب کی دھمکی دی ہے اور مسلمانوں سے کہا ہے کہ بری بات پھیلانے کے کیسے خطرناک اثرات مسلم سوسائٹی پر مرتب ہوتے ہیں، ان کا علم اللہ کو ہے، تم ان کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتے ہو، اس لیے اللہ کی جانب سے تمہیں جو اخلاقی تعلیمات دی جارہی ہیں ان پرسختی کے ساتھ عمل کرو۔ آیت (٢٠) میں اللہ نے دوبارہ احسان جتایا ہے کہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے تمہیں فورا عذاب میں مبتلا نہیں کیا، ورنہ تمہارا گناہ تو بہت بڑا تھا۔