سورة المؤمنون - آیت 62

وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنطِقُ بِالْحَقِّ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ (٦٢)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٧۔ اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرنے والوں کا جب ذکر آیا، تو یہ بتانا مناسب رہا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنانا، انسان اپنی وسعت بھر کوشش کر کے اپنے رب کی رضا اور اس کی جنت کو پاسکتا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے بھلائی کی طرف سبقت کرنے والوں کو بتایا کہ ان کے اعمال ایک ایسی کتاب میں لکھے جارہے ہیں جو کسی بھی نیکی یا بدی کو ضائع نہیں ہونے دیتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ بے انصافی نہیں ہوگی، بلکہ ان نیکیوں کا انہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجاثیہ آیت (٢٩) میں فرمایا : (ھذا کتابنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون) یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے ہیں۔