سورة الحج - آیت 49

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی اعلان کردیں کہ لوگو ! میں تمہیں کھلے الفاظ میں خبردار کردینے والا ہوں۔ (٤٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٨) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا، آپ عذاب کی جلدی مچانے والوں سے کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! میں تمہارا معبود اور رب نہیں ہوں، عذاب نازل کرنا یاکسی کو نوازنا میری قدرت سے باہر کی بات ہے میں تو اللہ کا ایک بندہ ہوں، مجھے صرف اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور فرمانبرداروں کو اس کی جنت کی خوشخبری دوں۔ آیات (٥٠، ٥١) میں اسی انجام نیک و بد کو بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو درگزر فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کردے گا اور جو لوگ اللہ کے بندوں کو اس کی آیتوں سے برگشتہ کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے، اور اس گمان باطل میں مبتلا رہیں گے کہ وہ اللہ کو عاجز کردیں گے، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کو کوئی مغلوب نہیں بنا سکتا اور ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔