سورة الأنبياء - آیت 2

مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو نصیحت آتی ہے اس کو مشکل سے سنتے ہیں اور کھیل کود میں پڑے رہتے ہیں۔“ (٢)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) قرآن کریم بدستور نازل ہوتا رہا، ایک آیت کے بعد دوسری آیت، ایک سورت کے بعد دوسری سورت، اس مسلسل تنبیہ و نصیحت کا تقاضا تو یہ تھا کہ کفار مکہ کے دل اسلام کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے، لیکن انہوں نے استکبار کی وجہ سے ہمیشہ ہی قرآن کا مذاق اڑایا، اپنی لہو و لعب والی زندگی میں مگن رہے اور ان کے دل قرآنی آیات میں غور و فکر کرنے سے غافل رہے۔