سورة طه - آیت 133

وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے کوئی دلیل کیوں نہیں لاتا ؟ اور کیا ان کے پاس پہلے صحیفوں کابیان واضح طور پر نہیں آیا۔“ (١٣٣)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٦١۔ کفار مکہ کہا کرتے تھے کہ محمد اگر نبی ہے تو گزشتہ انبیا کی طرح اپنی صداقت کی کوئی نشانی کیوں نہیں پیش کرتا، یا ہم لوگ جن نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ان میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا کہ کفار مکہ گزشتہ آسمانی کتابوں کا اعتراف کرتے ہیں اور ان میں نبی کریم کی بشارت اور نشانیاں موجود ہیں، تو پھر کون سی بات ان پر ایمان لانے سے مانع ہے۔ جواب کا دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ جن قوموں نے اپنے انبیا سے نشانیوں کا مطالبہ کیا تھا وہ قومیں نشانیاں آنے کے بعد بھی ایمان نہ لانے کی وجہ سے ہلاک کردی گئی تھیں، اگر یہ لوگ بھی ایمان نہ لائے تو انہیں عذاب الہی سے کون بچا سکے گا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آیت میں بینۃ سے مراد قرآن کریم ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی کریم کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے، اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ العنکبوت آیات (٥٠، ٥١) میں یون بیان فرمایا ہے : (وقالوا لولا انزل علیہ آیات من ربہ قل انما الایات عنداللہ وانما انا نذیر مبین۔ اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتاب یتلی علیھم ان فی ذلک لرحمۃ و ذکری لقوم یومنون) انہوں نے کہا، اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتاری گئیں؟ آپ کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، میں تو صرف کھلم کھلا آگاہ کرنے والا ہوں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان کے سامنے پڑھی جارہی ہے اس میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہیں۔