سورة طه - آیت 116

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا۔ (١١٦)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٥١۔ اللہ سے عہد کرنے کے بعد آدم نے عزم کیا تھا کہ وہ اس کے ہر حال میں پابند رہیں گے، لیکن شیطان ان کے پیچھے لگا رہا، یہاں تک کہ ان کے عزم کی پختگی جاتی رہی۔ مذکور ذیل آیتوں میں اسی کی تفصیل ہے : اللہ نے نبی کریم سے فرمایا کہ آپ لوگوں کو یہ واقعہ سنا دیجیے، جب ہم نے فرشتوں کو آدم کے لیے اظہار تعظیم کے طور پر سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا، تو تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس جو جنوں میں سے تھا اس نے کبر وغرور میں آکر سجدہ کرنے سے انکار کردیا، تو ہم نے آدم سے کہا کہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ تم دونوں اس کی بات مان لو اور تمہیں جنت سے نکل جانا پڑے، اور دنیا میں جاکر اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے کے لیے کھیتی اور محنت مزدوری کرنی پڑے، جو تمہاری پریشانی کا باعث ہو۔ یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔