سورة طه - آیت 99

كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ آتَيْنَاكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی اس طرح ہم گزرے ہوئے حالات کی خبریں آپ کو سناتے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ایک ” ذکر“ عطا کیا ہے۔ (٩٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٨) ٣٨۔ نبی کریم سے کہا جارہا ہے کہ جس طرح ہم نے آپ کے لیے مذکورہ بالا آیتوں میں موسیٰ و فرعون اور موسیٰ و بنی اسرائیل کے واقعات بیان کیے ہیں، اسی طرح آئندہ بھی گزشتہ قوموں کے عبرت آموز واقعات سنائیں گے اور ہم نے آپ کو خاص طور سے قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے جس میں مومنوں کے لیے نصیحتیں اور عبرت آموز خبریں ہیں، ایسی کامل و جامع کتاب کسی بھی نبی کو نہیں دی گئی، جو اس سے اعراض کرے گا اس پر ایمان نہیں لائے گا اور اس پر عمل نہیں کرے گا وہ اپنے کفر کی وجہ سے میدان محشر میں بہت سارے گناہوں کے ساتھ آئے گا جو اس کے ناتواں کندھے پر بہت بھاری بوجھ ہوں گے، جنہیں لیے وہ جہنم میں چلا جائے گا۔