سورة طه - آیت 74

إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور پیش ہوگا اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ موت ہے اور نہ زندگی۔ (٧٤)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٨) مفسر نسفی کہتے ہیں آیات (٧٤، ٧٥، ٧٦) جادوگر مسلمانوں کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جس میں کافر و مومن کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جس موت کفر پر ہوگی اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا، جہاں نہ اسے موت آئے گی کے عذاب سے چھٹکارا پالے اور نہ ایسی زندگی ہوگی جس میں اسے سکون میسر ہو، وہاں وہ زندہ ہوتے ہوئے عذاب نار سے ایسی شدید تکلیف اٹھائے گا کہ ہر دم اس پر موت کی کیفیت طاری رہے گی، اور جو اس دنیا میں ایمان و عمل صالح والی زندگی گزارے گا، قیامت کے دن اس کے درجات بلند ہوں گے اس کا ٹھکانا وہ جنت عدن ہوگی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور یہ بدلہ اس کو ملے گا جس نے دنیا میں اپنے آپ کو کفر و معاصی کی آلائشوں سے پاک رکھا ہوگا، احمد و مسلم نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے، رسول اللہ نے خطبہ دیا اور جب یہ آیت پڑھی تو فرمایا : جو لوگ جہنمی ہوں گے جہنم میں انہیں نہ موت آئے گی نہ ہی زندہ رہیں گے، اور ابو داؤد نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جنت میں بلند مقامات والوں کو ان کے نیچے والے اس طرح دیکھیں گے جیسے تم لوگ روشن ستارے کو آسمان میں دیکھتے ہو، اور ابوبکر و عمر انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب مقام ہوگا دونوں کا۔