سورة طه - آیت 65

قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جادوگر بولے موسیٰ تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں ؟ (٦٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٤) جب جادوگروں کے درمیان اتفاق ہوگیا کہ مقابلہ کیسے کیا جائے، تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ پہلے تم اپنی لاٹھی زمین پر ڈالو گے، یا ہم ڈالیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ پہلے تم ہی ڈالو، اور انہوں نے ایسا اس لیے کہا کہ جب جادوگر اپنا کرتب دکھلا چکیں گے اور ان کے خیالی سانپوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی نگل جائے گی، تو معجزہ نبوی زیادہ واضح شکل میں درس عبرت بن کر لوگوں کے سامنے آئے گا، جادوگروں نے جب اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دکھا کہ وہ جادو کے اثر سے دوڑ رہی ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) بحیثیت انسان ان سانپوں سے ڈر گئے، یا اس بات سے ڈر گئے کہ کہیں لوگ جادوگروں کے کرتب سے متاثر نہ ہوجائیں، اس لیے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کی مانند سانپ بن کر لوگوں کے سامنے دوڑ رہی تھیں، تو اللہ نے ان سے فرمایا کہ آپ ڈریے نہیں، بہرحال غلبہ آپ ہی کو نصیب ہوگا اور معجزہ الہی کے سامنے ان کی ایک نہیں چلے گی، آپ کے دائیں ہاتھ میں جو لاٹھی ہے اسے زمین پر ڈال دیجیے، انہوں نے ایسا ہی کیا، اور وہ لاٹھی ایک مہیب و عظیم اژدھا بن کر جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگلنے لگی، اور تمام لوگ اور جادوگر اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے، یہاں تک کہ میدان میں ایک سانپ بھی باقی نہ رہا، اور جادو شکست کھا گیا اور اللہ کا معجزہ غالب آگیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ انہوں نے جو کچھ بنایا تھا وہ جادوگروں کا کرتب تھا، اور جادوگر کوئی بھی چال چلے کامیاب نہیں ہوسکتا۔