سورة طه - آیت 56

وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے فرعون کو اپنی تمام نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلاتاچلا گیا اور انکار کرتا رہا۔‘ (٥٦)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) یہاں آیات سے مراد وہ نو نشانیاں ہیں جو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دی تھیں اور جن کا ذکر سورۃ الاسرا آیت (١٠١) میں آیا ہے، (ولقد اتینا موسیٰ تسع آیات) ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دی تھیں، وہ نشانیاں مندرجہ ذیل ہیں : لاٹھی، ید بیضا، قحط سالی، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈی، جویں، مینڈک اور خون۔ موسیٰ (علیہ السلام) بیس سال تک فرعون کو دعوت توحید ربوبیت دیتے رہے اور اس طویل مدت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا نشانیاں بھیج کر اسے راہ دکھائی، لیکن وہ کبر و غرور میں سب کو جھٹلاتا رہا اور ایمان لانے سے انکار کرتا رہا، اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ مصر والوں کو اپنے جادو کے زور سے اس وہم میں مبتلا کرنا چاہتے ہو کہ تمہیں اللہ نے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہماری سلطنت اور ملک مصر پر قابض ہوجاؤ اور ہمیں یہاں سے نکال دو۔ تو سن لو کہ ہم تمہارے جادو کا توڑ اس سے زیادہ قوی جادو سے کریں گے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ تم نبی نہیں بلکہ جادوگر ہو، اس لیے تم خود ہی ہمارے درمیان مقابلے کا ایک وقت مقرر کردو جس کی ہم میں سے کوئی خلاف ورزی نہ کرے اور اس کے لیے ایک ایسی جگہ تحدید کرودو جہاں کھڑے ہو کر سبھی لوگ مقابلہ دیکھ سکیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس انداز کلام میں فرعون کی جانب سے اس بات کا اظہار تھا کہ موسیٰ نے جادو دکھایا ہے اور ویسا جادو دکھانے پر وہ پوری طرح قادر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہمارے درمیان مقابلے کا وقت عید کا دن رہا، اور لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے صبح کے وقت جمع ہوجائیں تاکہ دن کی پوری روشنی میں اسے دیکھ سکیں، اس گفتگو کے بعد فرعون نے اپنی مجلس پر برخواست کردی، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مغلوب کرنے کے لیے اپنی سازش کے تانے بانے درست کرنے شروع کردیئے اور ملک کے تمام بڑے جادوگروں کو جمع کر کے مقابلہ جیتنے کے لیے سارے کیل کانٹے ٹھیک کرلیے۔