سورة طه - آیت 15

إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

قیامت کا وقت ہر صورت آنے والا ہے میں اس وقت کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کوئی اپنی کوشش کے مطابق بدلہ پائے۔ (١٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) قیامت کا وقوع پذیر ہونا امر یقینی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت محدد تمام انس و جن سے اتنا پوشیدہ رکھا ہے کہ قریب تھا اس کا ذکر ہی نہیں کرتا، اسے صیغہ راز میں رکھتا، یہاں تک کہ اچانک واقع ہوجاتی لیکن اپنے مومن بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں عمل صالح کی ترغیب دلانے کے لیے اور تاکہ غیر مومنوں کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے، اس کا اجمالی طور پر ذکر کردیا، اس دن باری تعالیٰ تمام انسانوں کو ان کے نیک و بد اعمال کا بدلہ چکائے گا جو انہوں نے دنیا میں اپنے اختیار اور مرضی سے کیا ہوگا۔ اس لیے (جیسا کہ آیت ١٤ میں گزر چکا ہے) اس دن کی گرفت سے بچنے کے لیے اللہ کی عبادت کرنا اور نماز قائم کرنا واجب ہوا۔