سورة مريم - آیت 85

يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَٰنِ وَفْدًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور (یعنی اپنے حضور) پیش کریں گے۔“ (٨٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥١) قیامت کے دن اہل تقوی اللہ تعالیٰ کے سامنے وفد کی شکل میں پہنچیں گے۔ عربی زبان میں وفد کا معنی شاہوں اور عظمائے قوم کے سامنے انعامات و مکافات حاصل کرنے کے لیے آنا ہوتا ہے۔ گویا آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کے دربار میں اس کے اہل تقوی بندے معزز و مکرم پہنچیں گے، اس کی جانب سے انعامات و مکافات پائیں گے، اور حسین و جمیل اونٹوں پر سوار ہو کر جنت کے دروازے پر پہنچ جائیں گے، اور جو مجرمین ہوں گے وہ نہایت اہانت آمیز پیاسے جانوروں کے مانند جہنم کی طرف ہانک دیئے جائیں گے۔