سورة مريم - آیت 41

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اس کتاب میں ابراہیم کا واقعہ بیان کیجیے یقیناً وہ سچے نبی تھے۔“ (٤١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٣) یہاں سے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے کافر باپ آزر کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے، نبی کریم کو کہا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو ابراہیم کی اولاد کو کہتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں، ذرا انہیں آپ قرآن کریم میں ان کا وہ واقعہ سنا دیجیے جو انہیں اپنے باپ آزر کے ساتھ پیش آیا تھا جو مکہ کے بت پرستوں کی طرح بت پرست تھا اور ابراہیم بہت بڑے صدق و صفا والے اور اللہ کے نبی تھے، ابراہیم نے اپنے باپ کو بت پرستی سے روکنے کے لیے غایت درجہ حسن ادب کے ساتھ کہا، اے میرے ابا ! آپ ایسے بت کی کیوں پوجا کرتے ہیں جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے، یعنی عبادت تو بہت بڑی تعظیم ہے، یہ بے جان اصنام تو اس لائق بھی نہیں کہ کوئی صاحب عقل انسان انہیں کوئی حیثیت دے، پھر آپ کیوں ان کی عبادت کرتے ہیں؟ اس آیت میں اور ذیل میں آنے والی تین آیتوں میں یہ بات قابل غور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو ہر نصیحت پیش کرنے سے پہلے (اے میرے ابا) کہا ہے، اس سے مقصود غایت درجہ کی نرمی اور محبت کا اظہار کر کے ان کے دل کو اپنی طرف مائل کرنا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا تھا کہ بیٹے کو بہرحال اپنے باپ کا احترام کرنا ہے۔