سورة مريم - آیت 2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس رحمت کا ذکر ہے جو آپ کے رب نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی۔“ (٢)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر اپنے فضل و کرم کا ذکر کیا ہے، جو بنی اسرائیل کے بہت ہی عظیم المرتبت نبی، اور یحی (علیہ السلام) کے والد تھے، صحیح بخاری میں ہے کہ وہ پیشہ کے اعتبار سے بڑھئی تھے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے، انہوں نے رات کی تاریکی میں جب دنیا سو رہی تھی، اپنے رب سے خفیہ طور پر دعا کی اور کہا کہ اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں اور سر کے بال بالکل سفید ہوگئے ہیں اور اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ تو نے میری دعا قبول نہ کی ہو۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی جناب میں ایک قسم کا توسل تھا کہ اے اللہ ! میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری حالت قابل رحم ہوچکی ہے، اور اس سے پہلے تو میری دعائیں قبول کرتا رہا ہے، اس لیے اس بار بھی میری دعا قبول کرلے اور مجھے ناامید نہ کر۔ اور میرے بعد میری قوم کی باگ ڈور میرے جن رشتہ داروں کے ہاتھ میں جائے گی وہ اس لائق نہیں ہیں کہ ان پر بھروسہ کیا جائے، ان میں کوئی ایسا نہیں جو دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھ سکے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ میری دعوت الی اللہ کے کاز کو نقصان پہنچائیں گے۔ اور میری بیوی جوانی کے زمانے سے ہی بانجھ ہے، اس لیے تو محض اپنے فضل و کرم سے مجھے ایک لڑکا عطا فرما جو علم و نبوت اور دعوت و تبلیغ کے کاموں میں میرا اور خاندان یعقوب کے دیگر انبیاء کا وارث بنے، اور اے میرے رب ! تو اسے بلند اخلاق و کردار والا بنا۔ سورۃ آل عمران آیت (٣٨) اور اس کے بعد کی آیتوں میں زکریا (علیہ السلام) کا یہ واقعہ گزر چکا ہے کہ جب انہوں نے مریم علیہا السلام کے پاس محرام میں انواع و اقسام کے پھل دیکھے تو اللہ کی قدرت سے غایت درجہ متاثر ہو کر اپنے بڑھاپے اور اپنی بیوی کی بانجھ پن کے باوجود اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے ایک لڑکا عطا کر، تو اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور انہیں لڑکے کی خوشخبری دے دی۔ اور انہوں نے صالح لڑکے کی تمنا اس لیے کی تاکہ ان کے بعد ان کی دعوت و تبلیغ کا کام جاری رہے۔