سورة الكهف - آیت 42

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَىٰ مَا أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اس کا سارا پھل تباہ کردیا گیا تو اس نے اپنی ہتھیلیاں ملتے ہوئے اس پر صبح کی جو اس میں خرچ کیا تھا وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہنے لگا اے کاش ! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا۔“ (٤٢) ”

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢١) چنانچہ ویسا ہی ہوا جیسا کہ مسلمان اسرائیلی نے کہا تھا۔ اچانک کافر کا باغ اور اس کے دوسرے املاک آفت کی زد میں آگئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا، ل تو شدت حسرت و یاس سے کف افسوس ملنے لگا کہ ہائے جو کچھ خرچ کیا تھا سب ختم ہوگیا اور انگور کا باغ زمین پر ڈھیر ہوگیا، اور پھر مسلمان اسرائیلی کی بات یاد کر کے کہنے لگا کہ کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، اسے یقین ہوگیا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کے کفر و شرک اور کبر و سرکشی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور اس نے فخر و مباہات کے طور پر جو کہا تھا کہ اس کے پاس جاہ و حشم اور اولاد وخدم بھی مسلمان سے زیادہ ہیں، تو اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آیت (٤٣) میں فرمایا کہ جب اس پر مصیبت آئی تو اللہ کے مقابلے میں کوئی بھی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا، اور نہ وہ خود ہی اللہ کے انتقام سے اپنے آپ کو بچا سکا، اس لیے کہ جبس کسی پر اللہ کا عذاب نازل ہوجاتا ہے، تو اس کی ذات کے علاوہ کوئی یارو مددگار نہیں ہوتا۔ آی (٤٤) میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کا ایک دوسرا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایسے ہی مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مشرکوں کے خلاف مدد کرتا ہے اور ان سے انتقام لے کر مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے، جیسا کہ اس مثال میں اللہ نے کافر کے خلاف مومن کی مدد کی اور اس کی بات کو سچ کر دکھلایا، اور اس مفہوم کی تائید آیت کے آخری حصہ سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو اچھا بدلہ دیتا ہے اور اس کا انجام اچھا کرتا ہے برعکس کافر کے، جس کے دنیاوی شرف و جاہ کی وجہ سے عذاب الہی اس سے نہیں ٹل جاتا، بلکہ اللہ اسے عذاب دے کر اس پر مومن کی فوقیت ثابت کرتا ہے۔