سورة الكهف - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ کے نام سے جو بہت ہی رحم والا، نہایت مہربان ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

نام : اس کا نام آیت : (١٠) (اذ اوی الفتیۃ الی الکہف) سے ماخوذ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اصحاب کہف کے قصے میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے بہت سے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ زمانہ نزول : قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ سورت تمام مفسرین کے نزدیک مکی ہے۔ ابن عباس کا یہی قول ہے اور آیتوں کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں پر اہل مکہ کا ظلم و ستم انتہا کو پہنچ رہا تھا، تاکہ اصحاب کہف کا واقعہ سنا کر مسلمانوں کی ہمت افزائی کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان سے پہلے مسلمانوں پر اس سے زیادہ ظلم کیا گیا، لیکن ان کے پاس استقامت میں تزلزل نہیں آیا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی ابتدائی آیتیں (ایک تا آٹھ) اور آیت (٢٨) اور آیات (١٠٧) سے (١١٠) تک مدنی ہیں۔ فضیلت : امام احمد، مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی وغیرہم نے ابو درداء سے روایت کی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا : جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں حفظ کرلی وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ وہگیا، اور حاکم نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرے گا اس کے لیے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور روشنی کیے ہوگا۔