سورة الإسراء - آیت 18

مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو شخص جلدی کرتا ہے ہم اس کو اس دنیا سے جو چاہیں گے دیں گے پھر ہم نے اس کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، وہ اس میں داخل ہوگا ملامت کیا ہوا دھتکارا ہوا۔“ (١٨) ”

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) آیت (١٣) میں آچکا ہے کہ ہر آدمی کا عمل چاہے اچھا ہو یا برا، اس کا لازمہ بن جاتا ہے اس سے وہ کسی حال میں چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا ہے، اور اسی کے مطابق قیامت کے دن کی نیک بختی یا بدبختی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں تقریبا اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ جس آدمی کی زندگی کا مقصد دنیا طلبی ہوتی ہے وہ گویا اپنے لیے شومی قسمت کو دعوت دیتا ہے اور جس کا مقصد حیات آخرت کی تیاری ہوتی ہے وہ اپنے لیے سعادت و نیک بختی کو اختیار کرلیتا ہے۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ جو شخص دنیا کے عارضی فائدے کی طلب میں لگا رہتا ہے اس کی کوشش کا منتہائے مقصود دنیا کی کامیابی ہوتی ہے، آخرت پر اس کا ایمان نہیں ہوتا، اس لیے مرنے کے بعد اسے اللہ سے نہ ثواب کی امید ہوتی ہے اور نہ ہی سزا کا ڈر، ایسے لوگوں میں سے کسی کے لیے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق دنیاوی منافع کے دروازے کھول دیتا ہے اور کسی پر ان دروازوں کو تنگ کردیتا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی فوری عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیتا ہے اور آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور اللہ کے ناشکرے بندے ہونے کی وجہ سے اس کی نگاہ میں برے اور اس کی رحمت سے دور ہوں گے، اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد طلب آخرت کے لیے کوشاں ہوں گے اور ان کی زندگی کا منتہائے مقصود اللہ کی رضا حاصل کرنی ہوگی، قیامت کے دن انہیں ان کے نیک اعمال کا بہترین بدلہ دیا جائے گا۔