سورة النحل - آیت 94

وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ نہ بناؤ، ایسا نہ ہو کہ قدم جمنے کے بعد پھسل جائے اور تم برائی کا خمیازہ چکھو، اس کے بدلے جو تم نے اللہ کی راہ سے روکا اور تمہارے لیے بہت بڑا عذاب ہو۔“ (٩٤) ”

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٠) آیت (٩٢) میں جس بات سے ضمنی طور پر منع کیا گیا ہے اسی سے یہاں صراحت کے ساتھ منع کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ کے نام کی قسم اس لیے کھائیں تاکہ کسی کو دھوکہ دیں اور کوئی دنیاوی مقصد حاصل کریں، اس لیے کہ یہ حق و صداقت پر ثبات قدمی کے خلاف ہے، اور جو لوگ ایسا کریں گے انہیں اللہ کی طرف سے دنیا میں ہی اس کا برا انجام مل جائے گا، کیونکہ ایسا کرنے سے دعوت اسلامی کو بہت بڑا نقصان پہنچے گا، اور جن لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوگا وہ مسلمانوں کی جانب سے بد عہدی اور بے وفائی دیکھ کر اسلام سے برگشتہ ہوجائیں گے، اور دوسرے لوگ بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے اسلام کو قبول نہیں کریں گے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں بھی بڑے عذاب کی دھمکی دی ہے۔