سورة الحجر - آیت 80

وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور بلاشبہ ” حجر“ والوں نے رسولوں کو جھٹلادیا۔“ (٨٠) ”

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٢) اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے، حجر مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک مشہور وادی ہے جہاں یہ لوگ رہتے تھے، بلاد شام کے حجاج کا گزر اس وادی سے ہوا کرتا ہے، ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا، جن کی انہوں نے تکذیب کی تھی، اور مرسلین جمع کا صیغہ اس لیے آیا ہے کہ جو ایک نبی کی تکذیب کرتا ہے گویا وہ سارے نبیوں کی تکذیب کردیتا ہے، انہوں نے صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ نبی ہیں تو پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھلائیں، صالح (علیہ السلام) نے دعا کی اور اللہ کے حکم سے پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی، لیکن جن کے دلوں پر اللہ کفر کی مہر لگا دے انہیں کب ہدایت مل سکتی ہے، انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا اور ایمان نہیں لائے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تین دن مہلت دی اور اس کے بعد انہیں ایک انتہائی شدید اور خطرناک چیخ کے ذریعہ ہلاک کردیا، اور ان کی دولت اور پہاڑوں کو کھود کر بنائے گئے مکانات انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے، ان ایک صفت یہ بھی تھی کہ کبر و غرور کی وجہ سے اپنی طاقت کے اظہار کے لیے بغیر ضرورت پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر مکانات بناتے تھے۔ بخاری و مسلم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی کریم تبوک جاتے ہوئے وہاں سے جب گزرے تو اپنا سر جھکا لیا اور تیزی کے ساتھ گزر جانے کے لیے سواری کو مہمیز لگائی اور صحابہ کرام سے کہا کہ عذاب دی گئی قوموں کے گھروں میں روتے ہوئے داخل ہو اور اگر رونا نہ آئے تو روتی شکل بنا لو، اس ڈر سے کہ کہیں تمہیں بھی انہیں جیسا عذاب نہ لاحق ہوجائے۔