سورة ابراھیم - آیت 27

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو ایمان لائے اللہ ان کو پختہ بات کے ساتھ قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہے کرتا ہے۔“ (٢٧)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٠) القول الثابت سے مراد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ بخاری و مسلم اور اہل سنن نے براء بن عازب سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یوں کہا ہے : (یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیاۃ الدنیا وفی الاخرۃ) ایک دوسری رائے یہ ہے کہ آیت سے مقصود کلمہ حق اور دین اسلام پر ثبات قدمی ہے، جن کے دلوں میں ایمان بس جاتا ہے، آزمائشوں کے وقت ان کے پائے استقلال میں تزلزل نہیں آتا، اور قیامت کے دن بھی جب ان سے ان کے دین و عقیدہ کے بارے میں سوال ہوگا تو میدان محشر کی ہولناکیوں سے متاثر ہو کر ان کی زبان نہیں لڑکھڑائے گی۔ بعض کا خیال ہے (حیاۃ الدنیا) سے مراد قبر میں سوال کا وقت اور آخرۃ سے مراد قیامت کے دن حساب کا وقت ہے، اور مقصود اس آیت سے یہ ہے کہ جب مومنوں سے قبر میں یا قیامت کے دن سوال ہوگا تو بلا جھجک کلمہ شہادت اپنی زبان پر لائیں گے اور دنیا میں دین اسلام پر قائم رہنے کی بات کریں گے، اور جنہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہوگا، کلمہ شہادت ان کی زبان پر نہ قبر میں آئے گا اور نہ ہی قیامت کے دن حساب کے وقت۔ بعض مفسرین نے (یضل اللہ الظالمین) کے ضمن میں لکھا ہے کہ ہر شخص جو دلائل و براہین کے باوجود سے اعراض کرتا ہے وہ آزمائشوں کے وقت دین حق پر ثابت قدم نہیں رہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کسی کو حق پر ثابت قدمی کی توفیق دیتا ہے تو کسی کو اس نعمت سے محروم کردیتا ہے، اس کے ارادہ و مشیت میں کسی کا کوئی دخل نہیں ہے۔