سورة یوسف - آیت 83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

’ اس نے کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے دل نے یہ کام خوبصورت بنا دیا ہے، میں اچھا صبر کروں گا امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، یقیناً وہی سب کچھ جاننے اور حکمت والا ہے۔“ (٨٣)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧١) جب وہ لوگ کنعان پہنچے تو اپنے باپ سے وہی کچھ کہا جو ان کے بڑے بھائی نے سکھایا تھا، تو انہوں نے کہا کہ یہ بات کہ میرے بیٹے نے چوری کی ہے، تمہارے ذہن کی ایک پیداوار ہے اس نے حقیقت میں چوری نہیں کی ہے، بعض مفسرین نے اس کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ بنیامین کو کنعان سے مصر لے جانا، تم لوگوں نے پہلے سے سوچی ہوئی سازش تھی تاکہ اسے بھی یوسف کی طرح غائب کردو، اب تو میرے لیے صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ اور یعقوب (علیہ السلام) کے مقام نبوت کے لائق یہی بات تھی، بخاری و مسلم نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : صبر یہ ہے کہ آدمی پہلی چوٹ کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرجائے۔ اس کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے امید ہوچکی ہے کہ میرا اللہ میرے تینوں بیٹوں (یوسف، بنیامین اور روبین) کو مجھ سے ملا دے گا، انہیں پہلے سے کچھ اندازہ تھا کہ یوسف زندہ ہیں، لیکن مفقود الخبر ہیں، یہ کہہ کر انہوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا، اور یوسف کی گمشدگی پر شدید حزن و ملال کا اظہار کرنے لگے، اس لیے کہ ان کی مصیبتوں کی ابتدا انہی کی گمشدگی سے ہوئی تھی، وہ گم ہوئے، پھر بنیامین غلام بنا لیے گئے، اور بڑے بیٹے نے بنیامین کے حادثے سے متاثر ہو کر مصر میں ہی غریب الوطنی کی زندگی اختیار کرلی، اور باپ کو منہ دکھانا پسند نہیں کیا۔ یعقوب یوسف کے گم ہونے کے بعد گھٹ گھٹ کر اتنا روئے کہ مسلسل آنسو بہتے رہنے سے آنکھیں سفید ہوگئیں، مفسرین لکھتے ہیں کہ کسی مصیبت یا کسی چہیتے کی موت یا گمشدگی پر غم کرنا حرام نہیں ہے۔ حرام یہ ہے کہ آدمی چیخ پکار کرے، گریبان پھاڑے اور ایسی باتیں کرے جو صبر و استقامت کے خلاف ہوں، نبی کریم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر کہا تھا، آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل مغموم ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جس سے اللہ ناراض ہو، اور اے ابراہیم ! ہم تیری جدائی پر غمگین ہیں۔ آیت کے آخری حصہ (فھو کظیم) میں اشارہ ہے کہ ان کا دل غم سے متاثر تھا اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔