سورة یوسف - آیت 78

قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ ۖ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انہوں نے کہا اے عزیز! بے شک اس کا باپ بہت بوڑھا ہے آپ ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لیں بے شک ہم تجھے احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔“ (٧٨)’

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٦) جب انہی کی رائے کے مطابق یہ بات طے پاگئی کہ اب بنیامین کو مصر میں ہی رہنا ہے، تو انہوں نے عزیز مصر سے رحم کی اپیل اس طرح کی کہ آپ ہم میں سے کسی ایک کو بنیامین کے بدل لے لیں اور اسے چھوڑ دیں اس لیے کہ اس کے والد بہت ہی بوڑھے ہیں اور اس سے بڑی محبت کرتے ہیں اور اسے دیکھ کر ہی گمشدہ بیٹے کا غم غلط کرتے ہیں، اور آپ نے پہلے ہم پر بہت احسانات کیے ہیں اس لیے یہ احسان عظیم بھی ہم پر کیجیے۔