سورة ھود - آیت 6

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔“ (٦)

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(6) اوپر گزر چکا کہ اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں تک کو جانتا ہے، اسی مفہوم کی تائید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین پر چلنے والے جتنے جاندار ہیں، وہ ان سب کو ان کی تخلیق و تکوین کے مطابق روزی پہنچاتا ہے، یہ اس کا اٹل وعدہ ہے، جو بطور منت و احسان پورا کرتا رہتا ہے، جب وہ ایک ایک جاندار کو روزی پہنچاتا ہے، دنیا میں ان کی جگہوں کو اور موت کے بعد ان کے ٹھکانوں کو جانتا ہے، تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے اقوال و افعال اور ان کے دیگر تمام احوال و کوائف سے بے خبر رہے؟ اسے سب کچھ کی خبر ہے، اور لوح محفوظ میں ہر بات لکھی ہوئی ہے۔