سورة یونس - آیت 39

بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم پر انھوں نے احاطہ نہیں کیا، حالانکہ اس کی حقیقت ان کے پاس نہیں آئی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ پھر دیکھیے ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔“ (٣٩) ”

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٤) جب کفار عرب کی جانب سے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں ملا، اور نہ ہی ملنا تھا، اور ان کے پاس قرآن کریم اور نبی کریم کی نبوت کے انکار کا کوئی عقلی اور نقلی جواز باقی نہ رہا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں نے قرآن کریم کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی، چونکہ ان کی خواہش کے مطابق نہیں تھا اس لیے بغیر سوچے سمجھے انکار کردیا، اور اس میں ہدایت اور نور حق کی جو بات ہے اس سے محروم رہے۔ آیت (٤٠) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو خبر دی ہے کہ یہ قرآن تو اللہ کا بنی نوع انسان کے لیے عظیم انعام ہے، اللہ تعالیٰ جن پر رحم کرے گا وہی اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس نور حق سے مستفید ہوں گے اور جو شقی ہوں گے وہ آپ کی ہزار کوششوں کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے، اور اللہ کو معلوم ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے اور کون گمراہی کا۔