سورة یونس - آیت 19

وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور نہیں تھے لوگ مگر ایک امت پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی طے ہوچکی ہے۔ تو ان کے درمیان اس بات کے بارے میں ضرور فیصلہ کردیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔“ (١٩) ”

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٨) اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ان کی ابتدائے آفرینش میں صرف دین توحید کا متبع بنایا تھا، پھر مرور زمانہ کے ساتھ انہی میں سے کچھ لوگوں نے دین فطرت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی اتباع شروع کردی اور بتوں کی پرستش کرنے لگے اور مختلف جماعتوں میں بٹ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کھاتے ہوئے انبیاء مبعوث کیے، جنہوں نے انہیں توحید کی دعوت دی، اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اگر اللہ کا پہلے سے یہ فیصلہ نہ ہوتا کہ وہ کسی کو بغیر حجت تمام ہوئے عذاب نہیں دیتا، اور یہ کہ اللہ نے جزا و سزا کو قیامت کے دن موخر کردیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس دنیا میں ہی کافروں کو ہلاک کردیتا۔