سورة التوبہ - آیت 7

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ان مشرکوں کا اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کس طرح ممکن ہے سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا۔ جب تک وہ تمہارے لیے پوری طرح قائم رہیں تم ان کے لیے پوری طرح قائم رہو بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔“ (٧)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(8) اس آیت میں مشر کین سے اعلان براءت اور انہیں صرف چارماہ کی مہلت دیئے جانے کی حکمت بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین کو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے امان کس بنیاد پر دیا جائے ؟ نہ تو وہ ایمان لائے اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچانے میں کوئ کسر اٹھا رکھی حق کے خلاف جنگ کی باطل کی تائید کی اور زمین میں فساد بر پا کیا اس لیے اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ہاں بنہ بکربن کنانہ کے جن لوگوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح حدبیہ کے موقع سے حرم کے پاس معاہدہ کرلیا تھا ان کے معاہدے کا خیال کیا جائے اگر وہ بھی اس کی پاسداری کریں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ غدروخیانت کو پسند نہیں کرتا۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام ذی القعدہ 6 ھ میں حدیبہ کے مقام پر اہل مکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدہ صلح پر قائم رہے یہاں تک کہ خود قریش نے نقض عہد کر کے اور بنو بکر کے ساتھ مل کر قبیلہ خزاعہ والو کو حرم میں قتل کردیا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان 8 ھ میں مکہ کے مشرکین پر حملہ کردیا اور بلد حرام کو مشرکوں سے پاک کردیا اس وقعہ کے بعد تقریبا دوہزار مشرکین مکہ اسلام لے آئے کچھ لوگ اپنے کفر پر بفاقی رہے اور مکہ سے بھاگ کھڑ ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں چار ماہ کی مہلت ید انہی لوگوں میں صفوان بن امیہ اور درعکرمہ بن ابی جیہل وغیرہ تھے بعد میں ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔