سورة الانفال - آیت 39

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کا ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ جو کچھ وہ کررہے ہیں اسے خوب دیکھنے والاہے۔ (٣٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(33) اللہ نے مسلمانوں کے خطاب کرکے فرمایا کہ تم لوگ اہل کفر وشرک سے جنگ کرو یہاں تک کہ مشرک کا خاتمہ ہوجائے یا کافروں کی جانب سے مسلمانوں کی آزمائش کا دور ختم ہوجائے اور ایک اللہ کی عبادت عام ہوجائے اس کے علا وہ کسی کی عباد نہ کی جائے اور اگر مشر کین کفر ومعاصی سے ظاہر طور پر باز آجائیں گے تو تم لوگ بھی جنگ کرنے سے رک جاؤ ان کی باطنی اعمال کو اللہ جانتا ہے، وہی ان کا حساب کرے گا اور ان کے کیے کے مطابق انہیں بدلہ دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ آیت (5) میں فرمایا ہے کہا گر تو بہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکاہ دیں تو انہیں چھوڑدو۔ صحیحین کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کو وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں جب وہ کلمہ پرھ لیں گے تو ان کا خون اور مال محفوظ ہوجائے گا، سوائے اس کے کہ اس پر کوئ شرعی حق ہو اور قیامت کے دن اللہ ان سے حساب لے گا اور صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت ہے کہ جب اسامہ بن زید (رض) نے ایک آدمی کو اس کے لا الہ الا اللہ کہنے بعد قتل کردیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا کہ قیامت کے دن کلمہ لا الہ الا اللہ کا کیا کروگے؟ تو اسامہ نے کہا یا رسول اللہ اس صرف جان بچانے کے لیے ایسا کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا تھا اور بار بار کہتے رہے کہ قیامت کے دن لا الہ الا اللہ کا کیا کر وگے ؟ اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اج ہی اسلام میں داخل ہوتا،۔