سورة الانفال - آیت 31

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَا ۙ إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اس جیسا ہم بھی کہہ دیں یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیوں کے سواکچھ نہیں۔“ (٣١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(25) یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے فارس چلا گیا تھا اور وہاں سے رستم واسفند کے واقعات پر مشتمل کتاب لے کر آیا تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجلس سے اٹھ جاتے تو یہ ملعون وہیں بیٹھ کر اس کتاب سے واقعات سناتا اور کہتا کہ بتاؤ تو سہی کس کی بات زیادہ دلچسپ ہے یہ شخص غزوہ بدر میں مقد اد بن اسود (رض) کے ہاتھوں پابند سلاسل ہوگیا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس کی گردن ماردی گئی۔ آیت میں جمع کا صیغہ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ تمام کفار قریش زبان قال اور زبان حال سے وہی کہتے تھے جو نضر کہتا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا قرآن لا سکتے ہیں، یہ ان کا غرور باطل تھا اس لیے کہ قرآن نے تو انہیں کتنی بار چیلنج کیا تھا، اور کوئی اس کا جواب نہ دے سکا تھا۔