سورة الانفال - آیت 17

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” پھر تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا ہے اور آپ نے نہیں پھینکا جب آپ نے پھینکا لیکن اللہ نے پھینکا تاکہ وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھا انعام عطاکرے۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والاہے۔ (١٧)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(11) غزوہ بدر میں مسلمانوں کو ان کی قلت وبے سرومانی کی باوجود اس لیے فتح حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ ان کی مدد کی اور ان کی دلوں کو مظبوط کیا اور کافروں کا ذلیل ورسوا کیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی دعا کرنے کے بعد خیمہ سے نکل کر مٹھی مٹی ایک بڑے لشکر کی آنکھوں تک انسانی طاقت کے ذریعہ نہیں پہنچ سکتی تھی، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات تھی، جس کی قدرت کی یہ کاریگری تھی محمد بن اسحاق وغیرہ نے روایت کی ہے کہ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مٹھی مٹی لے کر مشر کین کی طر پھینکا اور کہا کہ برے ہوں ان کافروں کے چہرے تو اللہ کی قدرت سے وہ کافروں کی آنکھوں اور ناکوں تک پہنچ گئی اس کے بعد آپ نے صحابہ کرام کو حملہ کرنے کا حکم دیا، اور اللہ کی تو فیق سے کافروں کو شکست ہوئی محمد بن اسحاق نے عردہ بن الزبیر سے کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جو احسان کیا تھا، اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ کس طرح اس نے دشمنوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کے باوجود مسلمانوں کو کا میابی دی تاکہ مسلما نوں کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے کہ فتح ونصرت کثرت عدد سے نہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے غلبہ عطا کرتا ہے۔