سورة الاعراف - آیت 128

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور متقی لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے۔ (١٢٨)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(66) جب فرعون نے بن اسرائیل کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کرلیا ؛ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپی قوم کو اللہ کی کی طرف رجوع کرنے، اس سے مدد مانگے اور اسی پر بھروسہ کرنے اور صبر کرنے کی نصیحت کی، اس لیے کہ ہر حال میں مومن کا لگاؤ اللہ سے ہوتا ہے اس کا یقین کامل ہوتا ہے کہ جس کا معین ومدد گار اللہ ہوتا ہے، اس کا کوئی بال بیکار نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اشارہ کے ذریعہ بشارت دی کہ بالآ خر غلبہ تمہیں ہی حاصل ہوگا، اور زمین کے سردار آل فرعون نہیں بلکہ تم ہو گے، اس لیے کہ زمین کا مالک اللہ ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا تا ہے۔