سورة الانعام - آیت 112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنادیا ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا ہے اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے، پس انہیں ان کے جھوٹ کے لیے چھوڑ دیجیے۔ (١١٢)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١١٦] کافروں کی گمراہ کن تدبیریں اور پروپیگنڈے :۔ یعنی یہ معرکہ حق و باطل ہر نبی کو پیش آتا رہا ہے۔ سب شیطانی قوتیں انبیاء کے مقابلہ میں ڈٹ کر آ کھڑی ہوتی ہیں اور ان دشمنوں میں صرف انسان ہی نہیں ہوتے شیطان بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اپنے دوستوں کے دلوں میں کئی خوش آئند تدابیر القاء کرتے رہتے ہیں کہ اسلام اور پیغمبر کے خاتمہ کے لیے یہ تدبیر بھی کارگر ہو سکتی ہے اور یہ تدبیر اس سے زیادہ بہتر ہے۔ نیز وہ کچھ ایسی تدبیریں پیش کرتے ہیں جو بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہیں لیکن اصل میں وہ مکر و فریب ہوتا ہے جیسے یہودیوں نے یہ تدبیر کی تھی کہ کچھ یہود ایمان لے آئیں پھر تھوڑے عرصہ بعد مرتد ہوجائیں۔ معاشرہ ہمارے اس فعل سے یہ اثر لے گا کہ یقینا دال میں کچھ کالا کالا ہے ورنہ یہودی تو عالم لوگ ہیں اگر اسلام سچا مذہب ہوتا تو یہ حق سے کیسے انحراف کرسکتے تھے پھر ایسی باتوں کا لوگوں میں پروپیگنڈہ بھی خوب کرتے ہیں۔ یا جیسے مشرک کہتے تھے کہ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اللہ کے مارے ہوئے (مردار) کو تو حرام سمجھتے ہیں اور اپنے مارے ہوئے (ذبح کردہ) کو حلال قرار دیتے ہیں۔