سورة المآئدہ - آیت 50

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ اور اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والاکون ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔“ (٥٠)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٢] اسلام اور جاہلیت کا تقابل :۔ جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ اسلام سراسر روشنی ہے جبکہ جاہلیت اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اسلام ایسی روشنی اور ایسا علم ہے جو دنیاوی زندگی کے ہر پہلو میں بھی رہنمائی کرتا ہے اور اخروی زندگی میں نجات کی راہیں بھی دکھاتا ہے جبکہ جاہلیت اس دنیا میں بھی انسان کو سرگرداں اور پریشان حال بنائے رکھتی ہے اور آخرت میں عذاب الیم سے دو چار کر دے گی اسلام سے پہلے کے دور کو دور جاہلیت کہا جاتا ہے اور اس کا اطلاق ان تمام رسوم و رواج پر ہوتا ہے جن کی وجہ سے کسی انسان کی جان و مال اور آبرو محفوظ نہ تھی۔ ہر انسان دوسرے کا دشمن اور خون کا پیاسا تھا۔ کفر و شرک عام تھا۔ انسان کی زندگی اس قدر اجیرن بن چکی تھی کہ ہر عقلمند انسان اس سے نکلنے کی فکر میں تھا مگر اسے کوئی راہ نہ ملتی تھی اور دور جاہلیت کے فیصلہ سے مراد ہر وہ فیصلہ ہے جو بے انصافی پر مبنی ہو۔ آج کے دور پر بھی دور جاہلیت کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ آج کی نئی روشنی اسی پرانے دور جاہلیت سے ملتی جلتی ہے جس قسم کی فحاشی و بدکرداری اور بے حیائی اس دور میں پائی جاتی تھی آج بھی پائی جاتی ہے۔