سورة النسآء - آیت 49

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا اظہار کرتے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہے کہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور کسی پر دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨١] سستی نجات کے عقیدے :۔ ان لوگوں سے مراد بھی علمائے یہود و نصاریٰ ہیں کہ جب انہیں ان کی بری کرتوتوں کو چھوڑنے اور ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو وہ شیخی میں آ کر کہتے (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاۗؤُہٗ 18؀) 5۔ المآئدہ :18) یعنی ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ نیز چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں لہذا پاکیزہ نفوس کے مالک ہیں۔ اور نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا تھا جس کی رو سے سب عیسائیوں کے گناہ تو سیدنا عیسیٰ نے اپنی گردن پر اٹھائے اور سولی چڑھ گئے اور اس طرح ان کی سب امت پاک ہوگئی۔ اور جنت کی مستحق ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کچھ نہیں بنتا۔ پاکیزہ تو صرف وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف رکھے اور اللہ اسے پاکیزہ قرار دے۔ یہود و نصاریٰ کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو سید اور آل رسول کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری پشت ہی پاک ہے یعنی ہم پشت در پشت پاک لوگ ہیں اور یہی عقیدہ یہود کا تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے اس دنیا میں بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص عرس کے دن اس دروازہ کے نیچے سے گزر جائے گا وہ مرنے کے بعد سیدھا بہشت میں چلا جائے گا۔ وغیرہ ذلک من الخرافات۔