سورة النسآء - آیت 33

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ماں باپ یا قرابت دار جو ترکہ چھوڑ جائیں ہم نے ہر شخص کے وارث مقرر کر دئیے ہیں اور جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥٦] مواخات اور میراث :۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ موالی سے مراد۔۔ وارث ہیں اور'(وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ) ' کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین اسلام ابتداًء جب مدینہ آئے تو مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا اور انصاری کے رشتہ داروں کو ترکہ نہ ملتا تھا کیونکہ نبی اکرم نے مواخات کرا دی تھی۔ پھر (جب مسلمانوں کی معیشت سنبھل گئی تو) یہ آیت اتری (وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ 33؀ۧ) 4۔ النسآء :33) تو اب ایسے بھائیوں کو ترکہ ملنا موقوف ہوگیا اور اب (عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ 33؀ۧ) 4۔ النسآء :33) سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے قسم کھا کر دوستی، مدد اور خیر خواہی کا عہد کیا جائے ان کے لیے ترکہ نہ رہا البتہ وصیت کا حکم باقی ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الکفالہ باب قول اللہ والذین عقدت ایمانکم)