سورة التغابن - آیت 7

زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انکار کرنے والوں نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ان سے فرمائیں کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٤] معاد کے انکار پر کوئی دلیل نہیں لائی جا سکتی :۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ علم نہیں ہے۔ جس کی بنیاد پر وہ یقینی طور پر کہہ سکیں کہ دوبارہ زندگی نہیں ہوسکتی۔ انسان کے پاس ایسا ذریعہ علم نہ کبھی آج سے پہلے تھا، نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوسکے گا۔ پھر اس دعویٰ کو اس زور شور سے پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ انسان زیادہ سے زیادہ یہی کچھ کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور نہ اٹھنے کے دونوں احتمال موجود ہیں۔ لیکن وہ جی اٹھنے کی تردید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتا۔ [١٥] تمہارے اس دعویٰ کے مقابلہ میں، میں اللہ کی طرف سے وحی کے علم کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ تم لوگ میری صداقت کے معترف رہے ہو اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں ضرور زندہ کیا جائے گا اور اس لئے زندہ کیا جائے گا کہ آج جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا تم سے مؤاخذہ کیا جائے۔ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے اور مظلوم کی دادرسی کی جائے۔ کائنات کا یہ نظام ہی اس بات پر شہادت دے رہا ہے کہ یہ کوئی اندھیر نگری نہیں ہے۔ کہ تم جو کچھ چاہو کرتے رہو، کرکے مر جاؤ اور تمہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔