سورة المنافقون - آیت 8

يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کہتے ہیں کہ ہم مدینہ پہنچ گئے تو عزت والا ذلیل کو نکال دے گا، حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے مگر منافق نہیں جانتے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٣] عبداللہ بن ابی کو جھوٹ بولنے کی کیا سزا ملی؟ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جرائم سے انکار کرنے کی سزا اس منافق کو ایک تو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کے نفاق اور کذب کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اسے رسوا کیا۔ اور دوسری سزا یہ ملی کہ خود اس کا بیٹا عبداللہ جو سچا مومن تھا۔ مدینہ کے دروازہ پر تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا۔ اور اپنے باپ کی راہ روک کر کہنے لگا کہ جب تک رسول اللہ اجازت نہ دیں تم مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ معزز ترین تو اللہ کا رسول ہے اور ذلیل ترین تم ہو۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ وہاں پہنچے جہاں بیٹا باپ کا راستہ روکے کھڑا تھا، آپ نے از راہ کرم عبداللہ بن ابی کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ تب جاکر بیٹے نے باپ کا راستہ چھوڑا۔ اس وقت اس منافق کو یہ بات معلوم ہوئی جسے وہ نہیں جانتا تھا کہ تمام تر عزت تو اللہ کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے اور ان کے مقابلہ میں وہی ذلیل ترین آدمی ہے۔ جب سیدنا عمر نے عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور اس کی وجہ محض شماتت اعداء تھی۔ ورنہ اس کے جرائم اس قابل تھے کہ اسے قتل کرکے اس مجسم فتنہ سے زمین کو پاک کردیا جاتا اور صحابہ میں ایسی چہ میگوئیاں ہونے بھی لگیں تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبداللہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ اگر آپ میرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے حکم فرمائیے میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا۔ اگر اسے کسی اور نے قتل کیا تو مبادا میری رگ حمیت بھڑک اٹھے'' (ابن ہشام، ١٢: ٢٩٠ تا ٢٩٢)