سورة الرحمن - آیت 31

سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے جن اور انسانوں عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوں گے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٠] ثَقَلاَنِ: ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گرانباری اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھل اور وزنی چیز اور ثقلان بمعنی زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں۔ دو بڑی انواع جن اور انسان جو مکلف ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت چونکہ مجرم، اللہ کی نافرمان اور اللہ کی زمین پر بوجھ ہی بنی رہی ہے اس لیے ان جماعتوں کو ثَقَلاَنِ کہا گیا ہے۔ [٢١] اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے حساب لینا بھی نعمت ہے :۔ یعنی تمہارا حساب لینے کے لیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت ہم اتنے مشغول ہیں کہ تمہارا حساب کتاب لینے کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ابھی تمہارے حساب کتاب کا وقت نہیں آیا۔ تاہم وہ وقت بھی قریب آرہا ہے جب اس کائنات کا دوسرا دور شروع ہوگا اور وہ دور بھی بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جیسے کسی شخص نے اپنا نظام الاوقات یا ٹائم ٹیبل پہلے سے بنا رکھا ہو اور وہ کہہ دے کہ ابھی فلاں کام کے لیے ہمارے پاس فراغت نہیں اس کی باری ایک گھنٹہ بعد آنے والی ہے اور ان جماعتوں سے حساب لینا پھر انہیں اس کے موافق جزا و سزا دینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت اور اس کے عدل کا تقاضا ہے۔