سورة الذاريات - آیت 44

فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس انتباہ کے باوجود انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کو ایک کڑک والے عذاب نے آ لیا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٨] گرنے والی بجلی کا عذاب :۔ صاعقۃ آسمان سے گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں اور وہ جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر خاکستر بنا دیتی ہے۔ قوم ثمود کا قصہ بھی پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کے لیے کہیں صیحہ (زبردست چیخ، کڑک، دھماکہ) کا لفظ آیا ہے اور کہیں رجفۃ (زلزلہ) کا۔ گویا ان پر زمین سے عذاب آیا تھا اور آسمان سے بھی اور ہر مقام پر کسی ایک پہلو کا ذکر کردیا گیا ہے۔