سورة آل عمران - آیت 161

وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یہ زیب نہیں دیتا کہ نبی خیانت کا ارتکاب کرے۔ ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے قیامت کے دن حاضر ہوگا۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٥٧] حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک سرخ رنگ کی روئی دار چادر کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن اموال غنیمت میں سے گم ہوگئی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا، شاید چادر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے لیے رکھ لی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ آیت بھی غزوہ احد ہی سے متعلق ہے۔ جب ابتداً ء اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور وہ غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگے تو حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں بھی اب درہ چھوڑ کر لوٹ مار حاصل کرنے میں شامل ہوجانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اموال غنیمت میں ہمارا حصہ ہی نہ لگائیں۔ تو اس شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی سے ایسی ناانصافی یا خیانت ممکن ہی نہیں۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امین ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے یمن سے ایک رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ جس سے ابھی مٹی بھی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سونے کو چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اطمینان نہیں۔ حالانکہ میں آسمان والے (اللہ تعالیٰ) کا امین ہوں۔ اور میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا'': اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈرئیے'' آپ نے فرمایا : ''تیری بربادی ہو، کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟ ( اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عدل کیجئے۔ آپ نے فرمایا : تیری بربادی ہو اگر میں نے ہی عدل نہ کیا تو اور کون کرے گا ؟) وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید نے عرض کیا : ''یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟'' مگر آپ نے اسے قتل کرنے کی اجازت نہ دی۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جارہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا : اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے۔ مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔'' ابو سعید کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کردوں گا'' (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اعطاء المؤلفۃ القلوب و بیان الخوارج، بخاری، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن ابی طالب خالد بن ولید) نیز کتاب استتابہ المعاندین والمرتدین۔۔ الخ) گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بدگمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بدگمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑجاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بدظنی سے اجتناب کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔ غل کا معنی دراصل ایسے خزانہ سے چوری کرنا ہے جو سب کی مشترکہ ملکیت ہو۔ لہذا اس کا معنی چوری بھی ہوسکتا ہے اور خیانت بھی۔ پھر غل کا لفظ دل میں کدورت، بغض و عناد کو چھپائے رکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے بعض علماء نے یہ معنی بھی کیا ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو معاف کردینے کے بعد اس کے دل میں کچھ کدورت باقی رہ جائے۔ [١٥٧۔ ١] مسلمانوں کے مشترکہ اموال سے کوئی چیز چرانا یا اس میں خیانت کرنا (جو کہ غل کا لغوی مفہوم ہے) کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کا اندازہ اس حدیث سے لگائیے : ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں جنگ خیبر کی غنیمت میں سونا چاندی تو ملا نہیں بس اونٹ بکریاں اور کپڑے وغیرہ ہی تھے۔ ایک شخص رفاعہ بن زید نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک غلام تحفۃً دیا تھا جس کا نام مدعم تھا۔ اس کے بعد آپ وادی القریٰ کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچنے پر مدعم آپ کو سواری سے اتار رہا تھا کہ اسے ایک تیر آلگا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ لوگوں نے کہا اسے جنت مبارک ہو۔ آپ نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے خیبر کے دن اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ایک کملی چرائی تھی جو آگ کے شعلے بن کر اس کے گرد لپٹ رہی ہے۔ جب لوگوں نے آپ کا یہ ارشاد سنا تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہوگیا۔ آپ نے اسے فرمایا : کہ اگر تم انہیں داخل نہ کراتے تو قیامت کو یہ تسمے آگ بن کر تمہیں جلاتے۔'' (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، نیز کتاب الایمان والنذور'' باب ھل یدخل فی الایمان والنذور الارض والغنم)