سورة الشورى - آیت 36

فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥١] یعنی دنیا میں جتنا بھی مال و دولت اور سامان عیش و عشرت کسی کو مل جائے۔ اس سے وہ زیادہ سے زیادہ اپنی موت تک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بالآخر اسے بالکل خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہونا ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں ایمانداروں کو جو آخرت میں سامان عیش و عشرت ملے گا۔ وہ سامان بھی لافانی اور لازوال ہوگا اور ایماندار لوگ ان اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ لہذا عقلمند انسان وہ ہے جو ناپائیدار اور فنا ہونے والے سامان کے بجائے دائمی اور پائیدار زندگی اور اس کے سامان کی فکر کرے۔ [٥٢] توکل کا معنی اور یہ مومن کی اہم صفت ہے :۔ یعنی جب ظاہری اسباب مفقود نظر آرہے ہوں، حالات مایوس کن ہوں۔ اس حال میں بھی وہ مایوس اور شکستہ دل نہیں ہوجاتے بلکہ اس حال میں بھی ان کی آنکھ اللہ کی طرف لگی رہتی ہے اور وہ اللہ کے وعدہ پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور اس مشکل سے نکالنے کی کوئی راہ پیدا کردے گا اور اسی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ان کے پاس ظاہری سامان موجود بھی ہو تو وہ اس پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ ان کا بھروسا اللہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے۔ گویا ظاہری اسباب موجود ہوں یا مفقود، تھوڑے ہوں یا زیادہ، مومن آدمی ان اسباب کو فراہم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے مگر اس کا ان اسباب پر تکیہ نہیں ہوتا۔ تکیہ اللہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے گویا اللہ پر توکل ایک مومن کی نہایت اہم صفت ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے بیان فرمایا۔ اسی طرح اللہ پر عدم توکل ایک مسلمان کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ جنگ حنین کے موقعہ پر ہر مسلمان ظاہری اسباب اور اپنی کثرت تعداد پر نازاں ہوئے تو اللہ نے انہیں عارضی طور پر شکست سے دوچار کرکے فوراً انہیں اس کمزوری پر متنبہ کردیا۔ توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ بس انسان اللہ پر توکل کرکے بیٹھ جائے۔ اور ظاہری اسباب کی فکر ہی چھوڑ دے۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ حتی الامکان ظاہری اسباب مہیا کرے اور اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے پھر اس کے انجام کو اللہ کے سپرد کر دے۔ چنانچہ آپ نے توکل کی تعریف یوں فرمائی کہ پہلے اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھ پھر توکل کر۔ (طبرانی۔ بروایت ابوہریرہ (رض) بحوالہ الموافقات للشاطبی، ج ١ ص ٢٩٠) اور کسی شاعر نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے : توکل کے یہ معنی ہیں کہ خنجر تیز رکھ اپنا پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر