سورة الصافات - آیت 121

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧١] یعنی ان دونوں نبیوں نے بھی راہ حق میں بے شمار قربانیاں دی تھیں۔ وہ اللہ کے حکم کے تحت اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر فرعون جیسے جابر اور ظالم فرمانروا کے پاس پہنچ گئے تھے۔ جبکہ سیدنا موسیٰ خود ان کے مجرم بھی تھے۔ پھر انہوں نے فرعون سے دعوت توحید کے بعد جو مطالبہ کیا تھا وہ بھی اسے سیخ پا کردینے والا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے انہیں ہمارے ہمراہ روانہ کردو۔ اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد انہوں نے اس بگڑی قوم کو سنوارنے کے لئے مقدور بھر کوششیں کی تھیں۔ ان کے ایسے ہی کارناموں کا صلہ ہم نے انہیں یہ دیا کہ رہتی دنیا تک انہیں بھلائی سے یاد کیا جائے۔ چنانچہ یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہی سب سے بڑی قومیں ہیں اور یہ سب سیدنا موسیٰ کو سچا نبی و روحانی پیشوا سمجھتے ہیں۔