سورة يس - آیت 45

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّقُوا مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے۔ شاید کہ تم پر رحم کیا جائے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[ ٤٤] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ سابقہ قوموں کا یہ انجام بھی تمہارے سامنے ہے اور تم خود بھی ایسے ہی انجام کی طرف جارہے ہو کیونکہ جس قوم نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا زور توڑ کے رکھ دیا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آئندہ تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جانے والا ہے اس کو بھی مدنظر رکھو اور ان اعمال کو بھی جو تم کرچکے ہو۔ اگر تم اپنے برے انجام سے ڈر گئے اور کچھ سبق حاصل کرلیا تو پھر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اللہ تم پر مہربانی فرمائے گا۔