سورة آل عمران - آیت 76

بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیوں نہیں جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦٦۔ ا] یہود کی باطنی خباثتوں کے ذکر کے درمیان ان کی بددیانتی کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ ان دونوں کا منبع ایک ہے اور وہ ہے تقویٰ کا فقدان۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسے بے باک اور نڈر ہوگئے تھے کہ نہ وہ اللہ کے احکام بیان کرنے میں دیانت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں سے معاملات میں وہ دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا جو کچھ بھی وہ کرلیں۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کردی گئی ہے۔ اسی زعم باطل کی بنا پر وہ غیر اسرائیلیوں کے اموال کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہڑپ کر جانے کو کچھ جرم نہیں سمجھتے تھے اور ان میں چند ایک جو فی الواقع اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی قسم کی بددیانتی اور خیانت کے روادار تھے اور نہ لوگوں کے معاملہ میں۔ ایسے ہی متقی لوگوں میں سے ایک عبداللہ بن سلام (رض) اور ان کے حلقہ اثر کے لوگ تھے۔ جو لوگوں سے بھی کسی طرح کی بددیانتی یا ہیرا پھیری نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتے تھے اور جب انہیں یہ تسلی ہوگئی کہ یہ نبی واقعی وہی نبی ہیں جن کی تورات میں بشارت دی گئی ہے ہے تو وہ بلاخوف لومۃ لائم فوراً اسلام لے آئے تھے۔