سورة الأحزاب - آیت 52

لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس کے بعد آپ کے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں کرلیں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا لگے البتہ لونڈیاں رکھنے کی آپ کو اجازت ہے، اللہ ہر چیز پر نگراں ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨٤] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کو جن چار قسم کی بیویوں سے نکاح کرلینے کی اجازت دی جاچکی ہے ان کے علاوہ دوسری عورتیں آپ پر حلال نہیں بس یہی کافی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بیویاں اس بات پر آمادہ ہوگئی ہیں کہ جو آپ کی طرف سے روکھا سوکھا ملے اس بات پر وہ صابر و شاکر رہیں۔ اور باری کا مطالبہ کرکے بھی آپ کو پریشان نہ کریں نہ اسے وجہ نزاع بنائیں تو اب آپ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ ان صابر و شاکر بیویوں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ کوئی اور لے آئیں۔ خواہ وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو بھی اب انھیں بیویوں پر صابر و شاکر رہنا چاہئے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد جس عورت سے شادی کرنا چاہے، اسے دیکھنا درست ہے۔ اور احادیث صحیحہ میں اس کی صراحت مذکور ہے۔ [٨٥] کنیزوں کی رخصت کا غلط استعمال :۔ یعنی کنیزوں کی تعداد پر شریعت نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ کیونکہ ان کا انحصار کسی جنگ میں قیدی عورتوں پر ہوتا ہے۔ اور یہ مستقبل کے حالات ہیں جو کبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن اس اجازت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نواب اور امیر کبیر حضرات عیش و عشرت کے لئے جتنی کنیزیں چاہیں خرید خرید کر اپنے گھروں اور محلات کے اندر ڈالتے جائیں یہ اس اجازت کا غلط استعمال ہے۔ آپ کی کنیزیں صرف دو تھیں ایک ماریہ قبطیہ جن کے بطن سے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے اور دوسری ریحانہ (رضی اللہ عنہما)