سورة لقمان - آیت 17

يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بیٹا نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، برائی سے منع کرو، اور جو مصیبت آئے اس پر صبر کر یقیناً یہ بڑے اہم کام ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٣] یعنی نماز کی ہمیشگی کے ساتھ باجماعت ادا کرتے رہنا یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ یہ کام باہمت لوگوں کا کام ہے۔ اسی طرح اچھے کاموں کا حکم دینا اور لوگوں کو برے کاموں سے روکتے رہنا بھی عام لوگوں کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی صاحب عزم لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی از خود معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے رکنے کا فریضہ سرانجام دیں انھیں لامحالہ لوگوں کی طرف سے ایذائیں پہنچیں گی۔ کیونکہ یہ پیغمبروں کا اسوہ ہے اور اسی لئے پیغمبروں کو لوگ ستاتے اور دکھ پہنچاتے تھے۔ اسی لئے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس راہ میں اگر مجھے دکھ اور ایذا پہنچے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کر اور یہ کہ مصائب پر صبر کرنا بھی کوئی معمولی کام نہیں۔ صاحب عزم و ہمت ہی یہ تینوں کام بجا لاسکتے ہیں۔