سورة لقمان - آیت 13

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا حقیقت یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٥] ایک دفعہ حضرت لقمان نے چند نصیحتیں اپنے بیٹے کو فرمائیں کہ وہ اتنی اہم تھیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا۔ دنیا میں اولاد ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے متعلق انسان انتہائی خلوص برتتا ہے اور نفاق نہیں کرسکتا۔ اور اولاد ہی کے متعلق اس کی آرزو ہوسکتی ہے کہ وہ ہر بھلائی کی بات میں اس سے آگے نکل جائے۔ حتیٰ کہ ایسی آرزو انسان اپنے حقیقی بہن بھائیوں اور دوستوں تک سے بھی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ پہلی نصیحت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وہ یہ تھی کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہ بنانا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی ناانصافی اور اندھیر کی بات یہی شرک ہی ہے۔ شرک مجسم ظلم اور سب سے برا ظلم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب (سورہ انعام کی) یہ آیت اتری۔ (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗیِٕکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ 82؀ۧ) 6۔ الانعام :82) تو صحابہ کرام (رض) پر بہت شاق گزری۔ وہ کہنے لگے ''ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ ظلم (یعنی کوئی گناہ) نہ کیا ہو۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بتلایا کہ اس آیت میں ظلم سے ہر گناہ مراد نہیں ہے (بلکہ شرک مراد ہے) کیا ہم نے لقمان کا قول نہیں سنا۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا۔ ان الشرک لظلم عظیم (بخاری۔ کتاب التفسیر) یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اہل مکہ ایک طرف تو لقمان حکیم کے حکیم اور دانا ہونے کے قائل تھے ؑ، دوسری طرف شرک میں بھی بری طرح مبتلا تھے۔ انھیں بتلایا جارہا ہے۔ کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصحیتیں کی تھیں ان میں سرفہرست شرک سے ان کی نفرت اور بیزاری تھی۔ کیونکہ اللہ کے بندے پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ماذ بن جبل سے فرمایا : ''تجھے معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟'' حضرت معاذ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ : ''اللہ اور اس کا پیغمبر ہی خوب جانتے ہیں'' آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا'': اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو بندہ شرک نہ کرتا ہو اللہ اسے عذاب نہ کرے'' (ہمیشہ دوزخ میں نہ رکھے) میں نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟'' فرمایا : ایسا نہ کرو ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے'' (بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب اسم الفرس والحمار)