سورة الشعراء - آیت 185

قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” انہوں نے کہا اے شعیب سحرزدہ آدمی ہے۔ (١٨٥)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٠٨] اس کے جواب میں قوم نے کہا۔ تمہاری عقل ٹھیک کام نہیں کرتی۔ تم تجارت کے گر اور راز کیا جانو۔ اگر ہم تمہاری باتوں پر لگ جائیں تو چند ہی دنوں میں اس میدان میں مات کھا جائیں اور سرمایہ بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھیں کیونکہ مقابلہ بڑا سخت ہے۔ اور ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارا یہ نبوت کا دعویٰ بھی بس ایک فریب ہی ہے۔ تم ہی ہمارے جیسے ایک محتاج انسان ہی ہو۔ تم میں ہم سے زائد کونسی خصوصیت ہے کہ ہم تمہیں ہی سمجھ لیں۔ اور تم اپنے آپ کو اپنے اس دعویٰ نبوت میں سچا سمجھتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہو وہ عذاب ہم پر لے آؤ۔ اور آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو۔ واضح رہے کہ قریش مکہ نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کے عذاب کا مطالبہ کیا تھا جیسا کہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ٩٢ میں گزر چکا ہے۔ اور کفار مکہ کو بتلایا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی ایک قوم ایسے عذاب کا مطالبہ کرچکی ہے۔ پھر جو حشر اس قوم کا ہوا تھا وہی یا اس سے ملتا جلتا تمہارا بھی ہونے والا ہے۔