سورة الشعراء - آیت 51

إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَن كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔“ (٥١)

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٨] مقابلہ سے پہلے جادوگروں کی یہ حالت تھی کہ وہ فرعون سے انعام و اکرام حاصل کرنے کے لئے التجا کر رہے تھے لیکن جب وہ علی وجہ البصبرت صدق دل سے ایمان لے آئے تو ان کے ذہن میں یک لخت انقلاب آگیا۔ جیسے یکدم کسی کی آنکھیں کھل جائیں۔ ان کے ایمان نے ان میں اتنی جرات پیدا کردی تھی کہ اب وہ اسی جابر اور ظالم فرعون کی سولی کی دھمکی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے تھے وہ یک زبان ہو کو بول اٹھے تم جتنا بڑا سلوک ہم سے کرسکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ زیادہ سے زیادہ تم ہمیں مار ہی سکتے ہو۔ اس سے زیادہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکو گے مگر ہمیں جو دولت ایمان میسرآئی ہے وہ ان تکلیفوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس معرکہ حق و باطل میں جادوگروں کی شکست کے بعد جس طرح جادوگروں ایمان لائے تھے اسی طرح فرعون بھی ایمان لے آتا۔ مگر وہ پہلے سے زیادہ اکڑ بیٹھا جس کی وجہ سے محض یہ تھی کہ اگر وہ ایمان لاتا تو اس کی ساری حکومت اور اقتدار ہاتھ سے جاتی تھی اور اسے موسیٰ (علیہ السلام) کا مطیع فرمان بنا کر رہنا پڑتا تھا۔ لیکن جادوگروں کو ایسی کوئی فکر لاحق نہ تھی۔ جس سے ایک واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنے جاہ، اپنی سرداریوں اور اپنے۔۔ سے دستبرداری ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ انبیاء کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے مخالف اور دشمن ہوتے ہیں۔